بنگلورو، 27؍اپریل ( ایس او نیوز ) کووڈ ۔19 کی چوتھی لہر سے متعلق آئی ٹی آئی کانپور کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی وزیر براۓ صحت و خاندانی بہبود ڈاکٹر کے سدھا کر نے کہا کہ کرناٹک میں کووڈ کی چوتھی لہر ماہ جون کے بعد عروج پر ہوگی اور یہ چوتھی لہرستمبر اور اکتوبر میں بھی باقی رہے گی ۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ آئی ٹی آئی کانپور نے پچھلے تین لہروں کے دوران بھی اپنی رپورٹیں شائع کی تھیں جو بہت ہی درست اور سا ئنفٹک تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں کووڈ کے ساتھ جینا شروع کر دینا چاہئے اور یہ بہت آسان اور ممکن اس وجہ سے ہے کہ ویکسی نیشن لگا کر اور ماسک پہن کر رہنے سے اس وبا سے خود کومحفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
سدھاکر نے بتایا کہ لوگوں میں بالخصوص مسلمانوں میں یہ خدشہ ہے کہ چوتھی لہر سے بچنے کے لئے کوڈ پابندیاں عائد کی جائیں گی جس سے عید رمضان کی نماز میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے ۔ یہ خدشات غیر ضروری ہیں ۔عیدالفطر کی نماز کے اہتمام میں حکومت کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ کل چہارشنبہ کے دن وزرائے اعلیٰ کے ساتھ وزیر اعظم کی میٹنگ کے بعد حکام کووڈ کی پابندیاں عائد کرنے کے پابند ہوجائیں گے ۔
ڈاکٹر سدھا کر کے مطابق موجودہ وائرس خود نمائی ہے اور یہ وائرس اومیکرون وائرس کی ایک شکل ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس تعلق سے ابھی سرکاری ر پورٹ کا انتظار ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر ریاستوں کے مقابلہ ریاست کرناٹک میں متاثرین کی تعداد بہت کم ہے ۔لیکن یہ درست ہے کہ کوڈ ۔19 کی چوتھی لہرآ چکی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ویکسی نیشن لگانے سے اسپتالوں میں داخلے کم ہوں گے اور اس وباء سے محفوظ رہیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں نے ویکسین لگوالیا ہے انہیں ایک فلو کی مانند انفیکشن ہوگا۔ جن لوگوں نے اب تک ویکسین نہیں لگوایا سے ان کے لئے خطرہ زیادہ ہے ۔
بی بی ایم پی کمشنر گورو گپتا نے واضح طور پر کہا ہے کہ بی بی ایم پی کی حدود میں روزانہ 60 تا 80 معاملے سامنے آرہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ فی الحال اسپتالوں میں متاثرہ مریضوں کے داخلے کم ہیں۔ آئندہ چوتھی لہر کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات ہونے چاہئیں اس کا فیصلہ کیا جاۓ گا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ترجیحی بنیاد پر بوسٹر ڈوز لے لیں ۔